نئی دہلی، 29 ؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گجرات میں بی جے پی کو اچھی ٹکر دینے کے بعد کانگریس اب راجستھان میں اپنی نئی حکمت عملی سے مضبوط چیلنج دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ ضمنی الیکشن میں توبی جے پی کواپنی جیت کاپورابھروسہ ہے، لیکن کانگریس نے اس انتخاب اسے سخت چیلنج کی حکمت عملی بناکراس سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے ماحول بنادیاہے۔ کانگریس اس ریاست میں نئی حکمت عملی کاسہارالے رہی ہے، یہاں اس کی حکمت عملی گجرات سے بالکل مختلف ہے۔گجرات میں کانگریس کے صدر راہل گاندھی مندر مندرجاکر ہندو ووٹرز کو متاثر کرنے کی کوشش کررہے تھے، یہی نہیں انہوں نے دیگر مذہبی مقامات سے کناراہی کرلیا۔ کانگریس لیڈران انہیں اصلی’’جینودھاری ہندو‘‘بتارہے تھے۔یہی نہیں انہوں نے ایساکوئی مسئلہ نہیں اٹھایاکہ جس سے لگے کہ کانگریس مسلمانوں کی حمایت یا تقسیم کررہی ہے۔کانگریس نے شاید گجرات میں یہ حکمت عملی اس لیے اپنائی کیونکہ مسلمانوں وہاں منتشرہیں اور اسی وجہ سے وہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کو متاثر نہیں کرسکتے تھے، مذہب کے معاملے میں توکانگریس راجستھان میں بھی شایدیہی حکمت عملی اپنائے لیکن کانگریس کا اصل ذات کے معاملے میں دکھ رہاہے۔راجستھان میں کانگریس کی سب سے زیادہ تشہیراس بات پر ہوگی کہ وسندھراحکومت نے اشوک گہلوت حکومت کی طرف سے شروع کیے گئے تمام ترقیاتی کاموں کو روک دیا ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کو اس کے بعد سب سے زیادہ بھروسہ ذات کی بنیاد پراپنے ٹکٹوں کو تقسیم کرنے کی صلاحیت پر ہوگا۔ اس بار کانگریس بڑی تعدادمیں اعلیٰ ذات کو ٹکٹ دے کرلبھانے کی کوشش کرے گی۔بی جے پی یہ راجستھان میں تو پہلے سے کرتی آرہی ہے لیکن اب کانگریس اس معاملے میں اس کو شکست دینے کی تیاری کر رہی ہے۔تاہم یہ دیکھنا دلچسپ ہے کہ آیا اس ذات کے لوگ صرف اس ذات کے امیدواروں کوٹکٹ دینے سے کانگریس کو ووٹ ڈالتے ہیںیا نہیں، مسلمانوں کے معاملے میں کانگریس کسی بھی قسم کی اپیل نہیں کرے گی لیکن اس پر ضرور عمل کرے گی کہ مسلمانوں کونشانہ بنایاجارہاہے، ان پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ کانگریس نے اشارہ کیا ہے کہ وہ تبدیلی کے لیے تیارہے اورموجودہ حکومت کو ختم کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کرے گی۔